سیاسی ومسلکی تعصبات سے بالا خواتین اور بچوں کی تعلیم وتربیت کےلیے آن لائن منفرد ادارہ

فاؤنڈیشن تعارف

تعلیم النسآء فاؤنڈیشن، پاکستان … ایک تعارف

ان سے پوچھو! کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں۔ (القرآن)

یہ بات حقیقت ہے کہ زیورِتعلیم سے آراستہ عورت ایک خاندان کی  تعلیم وتربیت کا سبب بنتی ہے۔ چونکہ عورت کی تربیت ہی دراصل خاندان ومعاشرہ کی تربیت ہوتی ہے۔ جیسا کہ اس بات کوکچھ اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ

’’مرد اگردیندار ہوجائے تو دین گھر کی دہلیز تک پہنچ جاتا ہے اوراگرگھرکی عورت دین دار ہوجائے تو دین نسلوں تک پہنچ جاتا ہے‘‘۔

اسلام خواتین کی تعلیم وتربیت پرخصوصی توجہ دیتا ہے۔ جہاں اسلام نے عورت کو اعلیٰ وارفع مقام دیا، وہاں  پر ایک احسان یہ بھی فرمایا کہ اسے درس وتدریس اور تعلیم وتربیت میں مردوں کے برابر  کا مکلف قرار دیا۔ چونکہ شریعت اسلامی کے مخاطب مرد اور عورت دونوں ہیں۔ اور روز قیامت مردوں کی طرح عورتیں بھی ربّ العالمین کے سامنے جواب دہ ہیں۔ لہٰذا عورتوں کے لئے بھی حصول علم جو ان کو بنیادی دینی امور کی تعلیم دے اور احکام اسلامی کے مطابق زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھائے وہ ان کے لئے فرض عین قراردیا گیا ہے۔ فرض عین سے مراد یہ ہے کہ اسے سیکھنا لازمی ہے اور اگر عورت  اس میں کوتاہی کرے تو وہ عنداللہ مجرم ہے۔ چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا ہی سے خواتین کی تعلیم کی طرف توجہ فرمائی۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة البقرة کی آیات کے متعلق فرمایا:

’’ تم خود بھی ان کو سیکھو اور اپنی خواتین کو بھی سکھاوٴ‘‘۔ (سنن دارمی:3390)

اسی طرح تربیت کے لئے اپنی خدمت میں حاضر ہونے والے وفدوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلقین فرماتے کہ

’’ تم اپنے گھروں میں واپس جاوٴ، اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہو، ان کو دین کی تعلیم دو اور ان سے احکام دینی پر عمل کراوٴ‘‘۔ (صحیح بخاری:63)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:

’’ جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی، ان کی اچھی تعلیم وتربیت کی، ان سے حسن سلوک کیا، پھر ان کا نکاح کردیا تو اس کے لئے جنت ہے‘‘۔(ابوداود: 5147)

تعلیم نسواں کی اہمیت:

تعلیم نسواں کے بارے میں کبھی دو رائیں نہیں ہوسکتیں، کیونکہ بے علم اور جاہل عورت معاشرے کی پسماندگی اور ابتری کا باعث بنتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس علم  رکھنے والی خاتون صحیح اور غلط، حق اور باطل، جائز اور ناجائز کی حدود کو جانتی اور پہچانتی ہے اور وہ اپنی زندگی کے پیش آمدہ مسائل کو خوش اسلوبی سے نمٹا لیتی ہے۔ یہ علم  اس کو شائستہ اور مہذب بناتا ہے۔ یہی عورت اپنے بچوں کی بھی صالح تربیت کرکے صالح معاشرہ تعمیر کرنے کا باعث ثابت ہوتی ہے۔

جب ایک عورت کی تعلیم وتربیت اتنی اہم اور ضروری ہے تو اس کے پیش نظر’’ تعلیم النسآء فاؤنڈیشن ‘‘  کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کا مقصد خواتین کی تعلیم وتربیت پرزور دینا اور انہیں زیورِتعلیم سے آراستہ کرکے خاندان کےلیے مشعل راہ بنانا ہے۔

تعلیم النسآء فاؤنڈیشن کا قیام:

جدید ذرائع ابلاغ  خاص طور انٹرنیٹ نے بےحد مقبولیت حاصل کرلی ہے کیونکہ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے کم اخراجات میں برق رفتاری کے ساتھ اپنا پیغام دوسروں تک منتقل کیا جاسکتا ہے۔ انٹرنیٹ کی اس بڑھتی مقبولیت کی وجہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مردوزن کی تعلیم وتربیت کا سلسلہ بھی دینی، سیاسی اور اسی طرح مختلف این جی اوز کی طرف سے شروع کیا گیا، لیکن اب تک انٹرنیٹ کی دنیا میں کوئی ایسا خاص پلیٹ فارم سامنے نہیں لایا جاسکا، جومردوں کے بجائے صرف خواتین تک محدود ہو، جس سےخواتین کو جہاں دینی ودنیاوی مسائل پر آگاہی ملے تو وہاں وہ اپنے معاشرتی مسائل بھی جان سکیں۔

کچھ ادارے ایسے ہیں، جنہوں نے خواتین کی تعلیم وتربیت پربہت کام کیا، اور کربھی رہے ہیں، لیکن وہ بھی اس طرز پرکام نہ کرسکے، جس طرزپہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں  کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ خواتین کےلیے سب سے بڑا مسئلہ گھر سے باہر جاکر تعلیم حاصل کرنے کا ہوتا ہے۔ جہاں خواتین گھریلوذمہ داریوں میں مصروف رہنے کی وجہ سے تعلیمی وتربیتی سنٹرز کا رخ نہیں کرپاتیں، وہاں آج کے اس پرفتن دور میں عورت کےلیے گھر سے نکلنا بھی کسی خطرہ سے خالی نہیں۔ اسی طرح کے اور دیگرمسائل، تو یہاں ضرورت تھی کہ خواتین کےلیے کوئی ایسا آنلائن ایجوکیشن سسٹم سامنے لایا جائے، کہ جس سے خواتین گھربیٹھےمستفید ہوتی رہیں۔ اسی ضرورت اور اس خلا کو پر کرنے کےلیے ’’ تعلیم النسآءفاؤنڈیشن ‘‘  کا قیام عمل میں لایا گیا۔ الحمدللہ

تعلیم النسآء فاؤنڈیشن کا مقصد:

’’ تعلیم النسآء فاؤنڈیشن ‘‘  کا قیام چونکہ خاص خواتین کے حوالے سے عمل میں لایا گیا ہے۔ جس کا مقصد صرف خواتین کی ہی راہنمائی سے متعلقہ مواد اور مختلف طرح کے  آنلائن کورسز پیش کرنا ہے۔ فاؤنڈیشن کے اغراض ومقاصد میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں۔

1۔ خواتین کےلیے ایسا آنلائن پلیٹ فارم قائم کیا جائے، جس کے ذریعےخواتین گھر بیٹھے جہاں فری میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کرسکیں، وہاں مختلف طرح کے دینی وتربیتی کورس کے ساتھ  گھریلو زندگی اور معاشرتی زندگی کے بارے میں بھی جان کراپنی اوراپنی اولاد کی صحیح تربیت بھی کرسکیں۔

2۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسی ویب سائٹس اور ایسے چینل تیار کیے جائیں، جن پرصرف خواتین سے ہی متعلقہ کتابیں، میگزین، مضامین، آڈیو اور ویڈیو مواد پیش کیا جاتا رہے۔ اسی طرح خواتین کی آپسی ڈسکیشن کےلیے ایسے پلیٹ فارم اور ایپلی کیشن قائم کی جائیں، جہاں پرصرف خواتین ہی گفتگو کرسکیں، اور اپنے مسائل کے حوالے سے خواتین سے ہی جان سکیں۔ اس کے ساتھ خواتین کے مسائل اور قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کےحل کےلیے ’’سوال جواب‘‘ طرز پہ پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جس کے ذریعے خواتین اپنے مسائل کا حل قرآن وحدیث کی روشنی میں جان سکیں۔

3۔ اہل علم خواتین جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر کام کرنا چاہتی ہیں، لیکن انہیں تکنیکی مسائل کا سامنا ہے، یا پھر وہ کام کیسے کریں؟ اور کہاں کریں؟ یا پھر وہ خواتین اپنے علم سے دوسری خواتین کو فائدہ پہنچا کر دنیا وآخرت میں رب تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتی ہیں، لیکن ان کے پاس کام کرنے کےلیے پلیٹ فارم نہیں  تو ایسی تمام خواتین ہمارے ان پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے علم کو دوسروں تک پہنچاسکیں گی۔ ان شاءاللہ

4۔ ایسی خواتین جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے مالی استطاعت سے نوازا ہے، اور وہ اپنے مال کو ایسے کاموں میں خرچ کرنا چاہتی ہیں کہ ایک تو اس کا فائدہ دوسرے اٹھاتے رہیں اور دوسرا یہ مال ان کےلیے صدقہ جاریہ بن جائے، اور خاص بات یہ کہ اس مال سے صحیح اور درست کام کا بھی اجراء ہو تو وہ خواتین بھی ہماری ٹیم کے ساتھ رکنیت حاصل کرسکیں گی۔ ان شاءاللہ، اور ہم ان بہنوں کے تعاون کوایسے کاموں میں خرچ کریں گے، جہاں پرخرچ کرنا ضرورت بھی ہوگا۔ اور صاحب مال کےلیے صدقہ جاریہ بھی۔ ان شاءاللہ

تعلیم النسآء فاؤنڈیشن پاکستان کے ا غراض ومقاصد:

کسی بھی ادارے (چاہے وہ آنلائن ہی کام کیوں نہ کرنا چاہتا ہو) کے اغراض ومقاصد اس ادارے کی تعمیروترقی میں ہمیشہ بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، اور اپنے مقاصد کو پیش نظررکھتے ہوئے کام کرنا کسی بھی ادارے کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ چنانچہ ’’ تعلیم النسآء فاؤنڈیشن ‘‘ نے اپنےاغراض ومقاصد میں حسب ذیل امور شامل کیے ہیں۔

٭ آن لائن قرآن مجید کی تعلیم، جس میں ناظرہ، حفظ ، ترجمہ اور تفسیرکی معیاری اور اعلیٰ تعلیم۔

٭ آن لائن دینی اور عصری علوم میں شرعی حدود اور جدید تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے حسین امتزاج پیدا کرنا۔

٭ خواتین کےلیے آن لائن  درس نظامی کی اعلٰی معیاری تعلیم کا انتظام۔

٭خواتین اور بچوں میں صحیح اسلامی عقائد کی اشاعت کا انتظام۔

٭ خواتین اور بچوں میں علوم دینیہ کی ترویج واشاعت اور اپنی اولاد کو علوم دینیہ سے آراستہ کرنے کا شوق دلانا۔

٭خواتین سے  کم علمی، بدعات و خرافات اور بے دینی کے اثرات کو ختم کرنا۔

الغرض اغراض ومقاصد کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ تعلیم النسآء فاؤنڈیشن ‘‘ کے تحت ایسی خواتین تیار کرنا ہے جو کمال علم کے ساتھ تقویٰ، للہیت اور اخلاص کے زیور سے آراستہ ہوں، جن کا مقصد تعلیم، تربیت اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانا ہو، دین کی نشر واشاعت اورخواتین کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنا مقصود ہو۔ علمی، تدریسی اور تجرباتی میدان میں خواتین کی مدد کرنا مقصود ہو، خواتین کو مذہب سے قریب کرنا اور دینی اقدار اور اسلامی آداب وثقافت سے روشناس کرانا  مقصود ہو۔

تعلیم النسآء فاؤنڈیشن، پاکستان

You may also like